بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اس سلسلے میں پیشرفت بھی ہوئی ہے، مذاکرات بھی ہوئے ہیں لیکن اسرائیل اور نیتن یاہو روڑے اٹکانے میں مصروف ہیں تاکہ کوئی سمجھوتہ نہ ہونے پائے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی وفد میں اختیار جی ڈی وینس کے پاس ہو تو مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کا امکان ہے لیکن اگر اختیار کوشنر اور ویٹکاف کے پاس ہو تو مذاکرات سابقہ دو ادوار کی طرح لاحاصل ہونگے؛ کیونکہ یہ دو افراد نیتن یاہو کے وفادار ہیں نہ کہ امریکہ کے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب صدر اول ڈاکٹر ظریف نے بھی اسی مسئلے کے بارے میں لکھا:
"اگر ہم اسلام آباد میں "سب سے پہلے امریکہ" کے قائل نمائندوں سے بات چیت کریں تو دنیا کے لئے مفید سمجھوتے تک پہنچنا ممکن ہے۔
لیکن اگر "سب سے پہلے اسرائیل" کے قائل افراد کا سامنا کرنا پڑے تو کوئی سمجھوتہ حاصل نہیں ہوگا۔
ہم پہلے کے مقابلے میں زیادہ شدت کے ساتھ اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہونگے اور دنیا کو زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔
اس وقت ایرانی اہلکار پاکستانی حکام کے بعد امریکی وفد کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کا تیسرا دور مکمل کر چکے ہیں اور چوتھا دور بھی ایران، امریکہ اور پاکستان کے درمیان شروع ہو چکا ہے۔ ایران کی طرف سے اسرائیل کو لبنان میں جنگ بندی پر مجبور کرنا اور ایرانی اثاثے آزاد کرنا۔
جنگ بندی کی پیشگی شرائط میں کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ کہا گیا ہے کہ ایرانی اثاثے آزاد ہوگئے ہیں، بیروت پر حملے بند ہوئے ہیں لیکن جنوبی لبنان پر صہیونی حملے جاری ہیں اور حزب اللہ بھی جوابی کاروائیاں کر رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ